كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا ابو اسامة ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " كنت اغار على اللاتي وهبن انفسهن لرسول الله صلى الله عليه وسلم، واقول وتهب المراة نفسها فلما انزل الله عز وجل: ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت سورة الاحزاب آية 51، قالت: قلت: والله ما ارى ربك إلا يسارع لك في هواك ".

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں ان عورتوں میں بہت رشک کھایا کرتی تھی جو اپنی جان کو ہبہ کر دیتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور میں کہتی تھی کہ عورت اپنی جان کو کیونکر ہبہ کرتی ہو گی پھر جب یہ آیت اتری «تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ» ۳-الاحزاب:۵۱) یعنی جس کو چاہے تو اے نبی! دور کر اپنے سے اور جس کو چاہے جگہ دے اپنے پاس ان میں سے۔ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قسم ہے اللہ پاک کی کہ میں دیکھتی ہوں کہ وہ اللہ آپ کی آرزو کے موافق جلد حکم فرماتا ہے۔

صحيح مسلم # 3631
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp