كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

وحدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي ، حدثنا سليمان يعني ابن بلال ، عن عبد الرحمن بن حميد ، عن عبد الملك بن ابي بكر ، عن ابي بكر بن عبد الرحمن : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين تزوج ام سلمة، فدخل عليها، فاراد ان يخرج اخذت بثوبه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن شئت زدتك وحاسبتك به للبكر سبع، وللثيب ثلاث "،

‏‏‏‏ ابوبکر بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نکاح کیا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور ان کے پاس آئے اور ارادہ کیا کہ نکلیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس زیادہ ٹھہروں اور اس مدت کا حساب رکھوں اور باکرہ بیوی کے پاس سات دن ٹھہرنا چاہیے اور ثیبہ کے پاس تین دن۔

صحيح مسلم # 3623
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp