كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث. ح وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن ابن شهاب ، عن عروة ، عن عائشة ، انها قالت: اختصم سعد بن ابي وقاص، وعبد بن زمعة في غلام، فقال سعد: هذا يا رسول الله، ابن اخي عتبة بن ابي وقاص، عهد إلي انه ابنه انظر إلى شبهه؟ وقال عبد بن زمعة: هذا اخي يا رسول الله، ولد على فراش ابي من وليدته، فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى شبهه فراى شبها بينا بعتبة، فقال: " هو لك يا عبد، الولد للفراش، وللعاهر الحجر، واحتجبي منه يا سودة بنت زمعة "، قالت: فلم ير سودة قط، ولم يذكر محمد بن رمح، قوله: يا عبد،

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ دونوں نے جھگڑا کیا ایک لڑکے میں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ لڑکا میرے بھائی کا بچہ ہے کہ نام میرے بھائی کا عتبہ بن ابی وقاص ہے اور انہوں نے مجھ سے کہہ رکھا تھا کہ یہ میرا فرزند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شباہت ملاحظہ فرما لیں۔ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن زمعہ نے کہا کہ یارسول اللہ! یہ لڑکا میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے فراش پر اس کی لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ مشابہہ ہے بخوبی عتبہ کے ساتھ اور فرمایا: کہ اے عبد! لڑکا اسی کا ہے جس کے فراش پر پیدا ہو اور زانی کو بے نصیبی اور محرومی ہے یا پتھر۔ اور اسے سودہ زمعہ کی بیٹی! تم اس سے چھپا کرو۔ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس کو کبھی نہیں دیکھا۔ اور محمد بن رمح کی روایت میں یا عبد کا لفظ نہیں ہے۔

صحيح مسلم # 3613
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp