كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثني عبد الملك بن شعيب بن الليث ، حدثني ابي ، عن جدي ، حدثني عقيل بن خالد ، عن ابن شهاب ، انه قال: اخبرني ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة ، ان امه زينب بنت ابي سلمة ، اخبرته، ان امها ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم كانت تقول: " ابى سائر ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ان يدخلن عليهن احدا بتلك الرضاعة، وقلن لعائشة: والله ما نرى هذا إلا رخصة ارخصها رسول الله صلى الله عليه وسلم لسالم خاصة فما هو بداخل علينا احد بهذه الرضاعة ولا رائينا ".

‏‏‏‏ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیبیاں رضی اللہ عنہن انکار کرتی تھیں اس سے کہ کوئی ان کے گھر میں آئے اس طرح کا دودھ پی کر۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ہم تو یہی جانتی ہیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالم کے لیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے ایسا دودھ پلا کر کسی کو نہیں لائے اور نہ ہم کو کسی کے سامنے کیا۔

صحيح مسلم # 3605
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp