وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن حميد بن نافع ، عن زينب بنت ام سلمة ، قالت: قالت ام سلمة، لعائشة: إنه يدخل عليك الغلام الايفع الذي ما احب ان يدخل علي، قال: فقالت عائشة : اما لك في رسول الله صلى الله عليه وسلم اسوة؟ قالت: إن امراة ابي حذيفة، قالت: يا رسول الله، إن سالما يدخل علي وهو رجل، وفي نفس ابي حذيفة منه شيء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ارضعيه حتى يدخل عليك ".
زینب، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی نے کہا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کے پاس غلام ایفع (یعنی ایسا لڑکا جو جوانی کے قریب ہے) آتا ہے جس کو میں پسند نہیں کرتی کہ میرے پاس آئے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اچھی نہیں اور حالانکہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! سالم میرے پاس آتا ہے اور وہ جوان مرد ہے، ابوحذیفہ کے دل میں اس کے آنے سے کراہت ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”تم اس کو دودھ پلا دو کہ وہ تمہارے پاس آیا کرے۔“