كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن رافع ، واللفظ لابن رافع، قال: حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرنا ابن ابي مليكة ، ان القاسم بن محمد بن ابي بكر ، اخبره: ان عائشة ، اخبرته: ان سهلة بنت سهيل بن عمرو جاءت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن سالما لسالم مولى ابي حذيفة معنا في بيتنا، وقد بلغ ما يبلغ الرجال، وعلم ما يعلم الرجال، قال: " ارضعيه، تحرمي عليه "، قال: فمكثت سنة او قريبا منها لا احدث به وهبته، ثم لقيت القاسم، فقلت له: لقد حدثتني حديثا ما حدثته بعد، قال: فما هو؟ فاخبرته، قال: فحدثه عني ان عائشة اخبرتنيه.

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قاسم بن محمد کو خبر دی کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! سالم مولیٰ ابوحذیفہ کے ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ تھے اور وہ بالغ ہو گئے اور مردوں کی باتیں جاننے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ تم سالم کو دودھ پلا دو۔ ابن ابی ملیکہ جو راوی حدیث ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے ایک سال تک اس روایت کو کسی سے بیان نہیں کیا اور خوف کرتا تھا اس سے (یعنی ڈرتا تھا کہ لوگ اس پر کچھ اعتراض نہ کریں) پھر میں قاسم سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ تم نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی کہ وہ میں نے آج تک کسی سے نہیں بیان کی انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: اب تم مجھ سے روایت کرو اور کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی (یعنی قاسم کو خبر دی)۔

صحيح مسلم # 3602
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp