كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، ومحمد بن ابي عمر ، جميعا عن الثقفي ، قال ابن ابي عمر، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب ، عن ابن ابي مليكة ، عن القاسم ، عن عائشة : ان سالما مولى ابي حذيفة كان مع ابي حذيفة، واهله في بيتهم فاتت تعني ابنة سهيل النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: إن سالما قد بلغ ما يبلغ الرجال وعقل ما عقلوا، وإنه يدخل علينا وإني اظن ان في نفس ابي حذيفة من ذلك شيئا، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: " ارضعيه، تحرمي عليه ويذهب الذي في نفس ابي حذيفة "، فرجعت، فقالت: إني قد ارضعته، فذهب الذي في نفس ابي حذيفة.

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے اور سہیل کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ (یعنی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی) اور عرض کی کہ سالم حد بلوغ کو پہنچ گیا اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگا وہ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابوخذیفہ کے دل میں اس سے کراہت ہے۔ سو فرمایا ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم سالم کو دودھ پلا دو کہ تم اس پر حرام ہو جاؤ اور وہ کراہت جو ابوحذیفہ کے دل میں ہے جاتی رہے۔ پھر وہ لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی کہ میں نے اس کو دودھ پلا دیا اور ابوحذیفہ کی کراہت جاتی رہی۔

صحيح مسلم # 3601
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp