كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، ومحمد بن العلاء ، واللفظ لابي بكر، قالوا: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن سعد بن عبيدة ، عن ابي عبد الرحمن ، عن علي ، قال: قلت: يا رسول الله، ما لك تنوق في قريش وتدعنا، فقال: " وعندكم شيء "، قلت: نعم، بنت حمزة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنها لا تحل لي، إنها ابنة اخي من الرضاعة "،

‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! کیا سبب ہے کہ آپ رغبت اور خواہش رکھتے ہیں قریش کی عورتوں کی اور ہم لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کیا تمہارے پاس کوئی ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ ہاں بیٹی حمزہ رضی اللہ عنہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے حلال نہیں اس لیے کہ وہ میری بھتیجی ہے رضاعی۔

صحيح مسلم # 3581
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp