كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث. ح وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن يزيد بن ابي حبيب ، عن عراك ، عن عروة ، عن عائشة ، انها اخبرته، ان عمها من الرضاعة يسمى افلح، استاذن عليها فحجبته، فاخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لها: " لا تحتجبي منه، فإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ".

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ان کے رضاعی چچا جن کا نام افلح تھا انہوں نے آنے کی اجازت چاہی اور میں نے ان سے پردہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے پردہ نہ کرو اس لیے کہ رضاعت سے حرام ہوتا ہے جو حرام ہوتا ہے نسب سے۔

صحيح مسلم # 3579
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp