وحدثني الحسن بن علي الحلواني ، ومحمد بن رافع ، قالا: اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، عن عطاء ، اخبرني عروة بن الزبير ، ان عائشة ، اخبرته، قالت: استاذن علي عمي من الرضاعة ابو الجعد، فرددته، قال لي هشام: إنما هو ابو القعيس، فلما جاء النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته بذلك، قال: " فهلا اذنت له تربت يمينك او يدك ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اجازت مانگی میرے پاس آنے کی میرے رضاعی چچا نے جن کی کنیت ابوالجعد تھی، سو میں نے ان کو اجازت نہ دی۔ ہشام نے کہا ابوالجعد ابولقعیس ہی ہیں۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کو کیوں نہ آنے دیا تمہارے داہنے ہاتھ میں خاک بھرے یا فرمایا ہاتھ میں۔“