كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابن نمير ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: جاء عمي من الرضاعة يستاذن علي، فابيت ان آذن له حتى استامر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: إن عمي من الرضاعة استاذن علي، فابيت ان آذن له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فليلج عليك عمك "، قلت: إنما ارضعتني المراة، ولم يرضعني الرجل، قال: " إنه عمك، فليلج عليك "،

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میرے پاس میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لوں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے کہا کہ میرے رضاعی چچا میرے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے تھے تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا چچا تیرے پاس آ سکتا ہے۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارا چچا ہے تمہارے پاس آ سکتا ہے۔

صحيح مسلم # 3575
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp