كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب ، عن عروة بن الزبير ، عن عائشة ، انها اخبرته: ان افلح اخا ابي القعيس جاء يستاذن عليها، وهو عمها من الرضاعة بعد ان انزل الحجاب، قالت: فابيت ان آذن له، فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبرته بالذي صنعت، " فامرني ان آذن له علي "،

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہا: افلح ابوالقعیس کا بھائی میرے دروازے پر آیا اور اجازت چاہی اندر آنے کی اور وہ ان کا رضاعی چچا تھا بعد اس کے کہ پردہ کا حکم اتر چکا تھا۔ سو میں نے اسے نہ آنے دیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے آنے دو اپنے پاس۔

صحيح مسلم # 3571
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp