كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

وحدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا سفيان ، قال: قلت للزهري: يا ابا بكر، كيف هذا الحديث شر الطعام طعام الاغنياء، فضحك فقال: ليس هو شر الطعام طعام الاغنياء، قال سفيان: وكان ابي غنيا، فافزعني هذا الحديث حين سمعت به، فسالت عنه الزهري ، فقال: حدثني عبد الرحمن الاعرج ، انه سمع ابا هريرة ، يقول: شر الطعام: طعام الوليمة، ثم ذكر بمثل حديث مالك،

‏‏‏‏ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے زہری سے پوچھا کہ یہ حدیث کیونکہ ہے کہ بدتر سب کھانوں سے کھانا امیروں کا ہے؟ سو وہ ہنسے اور انہوں نے کہا کہ وہ کھانا بدتر نہیں ہے اور سفیان نے کہا کہ میرے باپ امیر تھے، اس لیے مجھےاس حدیث سے بڑی پریشانی ہوئی، جب میں نے سنی اور میں نے زہری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن اعرج نے کہا کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہتے تھےکہ بدتر کھانا اس ولیمہ کا ہے پھر روایت کی مثل روایت مالک کے یعنی جو اوپر گزری کہ جس کی طرف امیر لوگ بلائے جائیں اور مساکین نہ بلائے جائیں۔

صحيح مسلم # 3522
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp