وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، حدثنا معمر ، عن ابي عثمان ، عن انس ، قال: لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب، اهدت له ام سليم حيسا في تور من حجارة، فقال انس: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اذهب فادع لي من لقيت من المسلمين "، فدعوت له من لقيت، فجعلوا يدخلون عليه فياكلون ويخرجون، ووضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على الطعام فدعا فيه، وقال فيه ما شاء الله ان يقول، ولم ادع احدا لقيته إلا دعوته، فاكلوا حتى شبعوا وخرجوا، وبقي طائفة منهم فاطالوا عليه الحديث، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يستحيي منهم ان يقول لهم شيئا، فخرج وتركهم في البيت، فانزل الله عز وجل: يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه سورة الاحزاب آية 53، قال قتادة: غير متحينين طعاما، ولكن إذا دعيتم فادخلوا حتى بلغ ذلكم اطهر لقلوبكم وقلوبهن سورة الاحزاب آية 53.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نکاح ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لئے ملیدہ ہدیہ بھیجا ایک برتن میں پتھر کے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جو مسلمان تم کو ملے اسے بلا لاؤ۔“ سو میں، جو ملا اسے بلا لایا۔ اور وہ لوگ سب داخل ہونے لگے اور کھانے لگے اور نکلتے جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے پر رکھا۔ اور دعا کی اور پڑھا اس پر جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اور میں نے بھی جو مجھے ملا کسی کو نہ چھوڑا ضرور بلا لایا۔ اور سب نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے اور باہر نکلے۔ اور ایک گروہ ان میں سے بیٹھا رہا۔ اور بہت لمبی باتیں کرتا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شرماتے تھے کہ ان کو کچھ کہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیتیں اتاریں جو اوپر مذکور ہوئیں۔