كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

وحدثني عمرو الناقد ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح ، قال ابن شهاب : إن انس بن مالك ، قال: " انا اعلم الناس بالحجاب، لقد كان ابي بن كعب يسالني عنه، قال انس: اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عروسا بزينب بنت جحش، قال: وكان تزوجها بالمدينة، فدعا الناس للطعام بعد ارتفاع النهار، فجلس رسول الله وجلس معه رجال بعد ما قام القوم، حتى قام رسول الله فمشى فمشيت معه حتى بلغ باب حجرة عائشة، ثم ظن انهم قد خرجوا فرجع ورجعت، معه فإذا هم جلوس مكانهم، فرجع فرجعت الثانية حتى بلغ حجرة عائشة، فرجع فرجعت، فإذا هم قد قاموا، فضرب بيني وبينه بالستر، وانزل الله آية الحجاب ".

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سب سے زیادہ واقف ہوں حجاب کے اترنے سے اور سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے پوچھا کرتے تھے پھر کہا کہ صبح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولہا بنے ہوئے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے۔ اور ان سے نکاح کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اور لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا جب دن چڑھا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھے اور چند لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعد اس کے کہ سب لوگ چلے گئے اور وہ لوگ یہاں تک بیٹھے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے۔ پھر خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔ اور لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹا تو دیکھا کہ وہ لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے ہیں اسی جگہ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹے اور میں بھی دوبارہ لوٹا یہاں تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کےحجرے تک پہنچے اور پھر لوٹے اور میں بھی لوٹا سو دیکھا کہ وہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور آیت پردہ کی اتری۔

صحيح مسلم # 3506
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp