حدثنا يحيى بن حبيب الحارثي ، وعاصم بن النضر التيمي ، ومحمد بن عبد الاعلى ، كلهم عن معتمر ، واللفظ لابن حبيب: حدثنا معتمر بن سليمان، قال: سمعت ابي ، حدثنا ابو مجلز ، عن انس بن مالك ، قال: " لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش دعا القوم فطعموا، ثم جلسوا يتحدثون، قال: فاخذ كانه يتهيا للقيام فلم يقوموا، فلما راى ذلك قام، فلما قام، قام من قام من القوم "، زاد عاصم، وابن عبد الاعلى في حديثهما، قال: فقعد ثلاثة، وإن النبي صلى الله عليه وسلم جاء ليدخل، فإذا القوم جلوس، ثم إنهم قاموا فانطلقوا، قال: فجئت فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم انهم قد انطلقوا، قال: فجاء حتى دخل، فذهبت ادخل فالقى الحجاب بيني وبينه، قال: وانزل الله عز وجل يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه، إلى قوله: إن ذلكم كان عند الله عظيما سورة الاحزاب آية 53.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نکاح کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت حجش سے۔ لوگوں کو بلایا اور کھانا کھلایا پھر وہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوتے ہیں۔ گویا کہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ (یہ نہیں اٹھتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ان میں سے کچھ لوگ اٹھ گئے اور عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی روایتوں میں یہ بات زیادہ کی کہ تین آدمی ان میں سے بیٹھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ اندر جائیں تو دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہیں۔ پھر وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ سو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کہ ”اے ایمان والو! مت داخل ہو گھروں میں نبی کے۔ مگر جب اجازت ملے تم کو کھانے کی اور نہ انتظار کرتے رہو اس کے پکنے کا“ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ)» تک۔ یعنی پوری آیت «إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا» تک اتری۔