كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عفان ، حدثنا حماد بن سلمة ، حدثنا ثابت ، عن انس ، قال: كنت ردف ابي طلحة يوم خيبر، وقدمي تمس قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فاتيناهم حين بزغت الشمس وقد اخرجوا مواشيهم، وخرجوا بفؤوسهم، ومكاتلهم، ومرورهم، فقالوا: محمد، والخميس، قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين "، قال: وهزمهم الله عز وجل، ووقعت في سهم دحية جارية جميلة، فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبعة ارؤس، ثم دفعها إلى ام سليم تصنعها له وتهيئها، قال: واحسبه، قال: وتعتد في بيتها وهي صفية بنت حيي، قال: وجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وليمتها التمر، والاقط، والسمن، فحصت الارض افاحيص وجيء بالانطاع، فوضعت فيها وجيء بالاقط والسمن، فشبع الناس، قال: وقال الناس: لا ندري اتزوجها ام اتخذها ام ولد؟ قالوا: إن حجبها فهي امراته، وإن لم يحجبها فهي ام ولد، فلما اراد ان يركب حجبها، فقعدت على عجز البعير فعرفوا انه قد تزوجها، فلما دنوا من المدينة دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم ودفعنا، قال: فعثرت الناقة العضباء، وندر رسول الله صلى الله عليه وسلم وندرت فقام فسترها وقد اشرفت النساء، فقلن ابعد الله اليهودية، قال: قلت: يا ابا حمزة، اوقع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: إي والله لقد وقع. (حديث موقوف) قال انس : وشهدت وليمة زينب، فاشبع الناس خبزا ولحما، وكان يبعثني فادعو الناس، فلما فرغ قام وتبعته، فتخلف رجلان استانس بهما الحديث لم يخرجا، فجعل يمر على نسائه فيسلم على كل واحدة منهن: " سلام عليكم كيف انتم يا اهل البيت؟ "، فيقولون: بخير يا رسول الله، كيف وجدت اهلك؟: فيقول: بخير، فلما فرغ رجع ورجعت معه، فلما بلغ الباب إذا هو بالرجلين قد استانس بهما الحديث، فلما راياه قد رجع قاما فخرجا فوالله ما ادري انا اخبرته ام انزل عليه الوحي بانهما قد خرجا، فرجع ورجعت معه، فلما وضع رجله في اسكفة الباب ارخى الحجاب بيني وبينه، وانزل الله تعالى هذه الآية: لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم سورة الاحزاب آية 53 الآية ".

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ردیف تھا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا خیبر کے دن اور قدم میرا چھو جاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم سے، پھر پہنچے ہم اہل خیبر کے پاس جب آفتاب نکلا اور ان لوگوں نے اپنے چارپایوں کو نکالا تھا۔ اور وہ اپنے کدال اور ٹوکری اور پھاوڑے لے کر نکلے اور کہنے لگے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خمیس یعنی دونوں آ گئے کہاراوی نے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خراب ہوا خیبر اور جب ہم اترتے ہیں کسی قوم کے آنگن میں سو برا انجام ہوتا ہے ڈرائے گئے لوگوں کا۔ اور اللہ تعالٰی نے ان کو شکست دی اور دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک باندی خوبصورت آئی اور خرید لیا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات شخصوں کے بدلے میں اور پھر سپرد کیا اس کو ام سلیم رضی اللہ عنہا کےکہ سنگار کر دیں ان کا اور تیار کر دیں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ اور کہا راوی نے کہ گمان کرتا ہوں میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ان کے سپرد کیا کہ وہ ان کے گھر میں عدت پوری کرے یعنی ایک حیض کے ساتھ استبراء ان کا ہو جو حکم ہے باندی کا اور یہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیٹی تھیں حیی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا ولیمہ کیا کھجور اور اقط سے اور گھی سے اور زمین میں کئی گڑھے کھودے گئے اور اس میں دستر خوان چمڑے کا بچھا دیا گیا، گڑھے اس لیے کھودے کہ گھی ادھر ادھر نہ جانے پائے اور اقط اور گھی لائے اور اس میں ڈال دیا۔ اور لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور لوگ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا یا ان کو ام ولد بنایا پھر لوگوں نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھپایا تو جانو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اور اگر نہ چھپایا تو جانو کہ ام ولد ہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے لگےتو ان پر پردہ کیا اور وہ اونٹ کے سرین پر بیٹھیں، سو لوگوں نے جان لیا کہ ان سے نکاح کیا ہے پھر جب مدینہ کے قریب پہنچ گئے جلدی چلایا اونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جلدی چالایا ہم نے اور ٹھوکر کھائی عضباء اونٹنی نے یہ نام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گرے اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گریں سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ان پر پردہ کر لیا اور عورتیں دیکھنے لگیں اور کہنے لگیں اللہ دور کرے یہودیہ کو۔ کہا راوی نے میں نے کہا اے حمزہ،کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں سیدہ زینب ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں بھی حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو آسودہ اور سیر کر دیا روٹی اور گوشت سے اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے کہ لوگوں کو بلا لاؤں پھر جب کھلانے سے فارغ ہو چکے۔ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوا دو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں رہ گئے (یعنی جہاں زینب تھیں) اور ان کو باتوں نے بٹھا رکھا اور وہ نہ نکلے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں کے حجروں پر جاتے تھے اور ہر ایک پر سلام کرتے تھے اور فرماتے تھے:کہ کیسے ہو تم اے گھر والو! وہ کہتی تھیں کہ ہم خیریت سے ہیں، اے رسول اللہ کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بی بی کو کیسا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کہ خیر سے ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کی خیر و عافیت پوچھنے سے فارغ ہوئے لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹا اور جب دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں شخص موجود ہیں اور باتوں میں مشغول ہیں۔ پھر جب ان دونوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، کھڑے ہو گئے اور باہر نکلے سو اللہ کی قسم ہے کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری کہ وہ دونوں شخص چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر آئے یعنی حجرہ زینب پر اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر رکھا دروازے کی چوکھٹ پر، پردہ ڈال دیا میرے اور اپنے بیچ میں اور یہ آیت مبارک اتری «لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ» نہ داخل ہو تم نبی کے گھر میں مگر جب ان کی طرف سے اجازت ہو تم کو۔

صحيح مسلم # 3500
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp