حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا ابو اسامة . ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، قال: وجدت في كتابي، عن ابي اسامة ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم لست سنين، وبنى بي وانا بنت تسع سنين "، قالت: فقدمنا المدينة، فوعكت شهرا فوفى شعري جميمة، فاتتني ام رومان، وانا على ارجوحة ومعي صواحبي، فصرخت بي فاتيتها، وما ادري ما تريد بي، فاخذت بيدي فاوقفتني على الباب، فقلت: هه هه حتى ذهب نفسي، فادخلتني بيتا، فإذا نسوة من الانصار، فقلن على الخير والبركة وعلى خير طائر، فاسلمتني إليهن، فغسلن راسي واصلحنني، فلم يرعني إلا ورسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى، فاسلمنني إليه ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نکاح کیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں چھ برس کی تھی اور زفاف کیا مجھ سے اور میں نو برس کی تھی اور فرماتی ہیں کہ پھر میں مدینہ میں آئی اور وہاں مجھے بخار رہا ایک ماہ تک اور پھر میرے بال کانوں تک ہو گئے (یعنی بعد اس کے کہ مرض میں جھڑ گئے تھے) تب رومان کی ماں میرے پاس آئیں (یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں) اور میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں اور انہوں نے مجھے پکارا اور میں ان کے پاس آئی اور میں نہ جانتی تھی کہ مجھے کیوں بلایا ہے۔ سو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازہ پر کھڑا کر دیا اور میں ہاہ ہاہ کر رہی تھی (جیسے کسی کی سانس پھول جاتی ہے) یہاں تک کہ میری سانس پھولنا بند ہو گئی اور مجھے وہ ایک گھر میں لے گئیں اور وہاں چند عورتیں انصار کی تھیں اور وہ کہنے لگیں کہ اللہ خیر و برکت کرے اور تم کو حصہ ہو خیر میں سے غرض میری ماں نے ان کے سپرد کر دیا اور انہوں نے میرا سر دھویا اور سنگار کیا۔ اور مجھے اور کچھ خوف نہیں پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے چاشت کے وقت اور مجھے ان کے سپرد کر دیا۔