وحدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا سفيان ، بهذا الإسناد، وقال: الثيب احق بنفسها من وليها، والبكر يستاذنها ابوها في نفسها، وإذنها صماتها، وربما قال: وصمتها إقرارها.
اسی سند سے مروی ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اپنے ولی سے (یعنی نکاح کی مختار ہے) اور کنواری سے اس کا باپ اس کی ذات کے لیے اجازت لے اور اجازت اس کی چپ رہنا ہے۔“ اور بعض وقت راوی نے کہا کہ ”اس کا چپ رہنا گویا اقرار کرنا ہے۔“