كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

وحدثني عمرو الناقد ، وزهير بن حرب ، وابن ابي عمر ، قال زهير: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن الزهري ، عن سعيد ، عن ابي هريرة : ان النبي صلى الله عليه وسلم: " نهى ان يبيع حاضر لباد، او يتناجشوا، او يخطب الرجل على خطبة اخيه، او يبيع على بيع اخيه، ولا تسال المراة طلاق اختها، لتكتفئ ما في إنائها، او ما في صحفتها "، زاد عمر وفي روايته: ولا يسم الرجل على سوم اخيه.

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے کہ شہر والا مال بیچ دے گاؤں والے کا اور منع فرمایا اس سے کہ آپس میں لاڑھیا پن کرو اور اس سے کہ پیغام نکاح دے کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر یا بیچے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر اور نہ مانگے طلاق اپنی بہن کی کوئی عورت تاکہ انڈیل لے جو اس کی رکابی میں ہے۔ زیادہ کیا عمرو نے اپنی روایت میں کہ اور نہ بھاؤ کرے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر۔

صحيح مسلم # 3458
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp