كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

وحدثني محرز بن عون بن ابي عون ، حدثنا علي بن مسهر ، عن داود بن ابي هند ، عن ابن سيرين ، عن ابي هريرة ، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تنكح المراة على عمتها، او خالتها، او ان تسال المراة طلاق اختها لتكتفئ ما في صحفتها، فإن الله عز وجل رازقها ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہ نکاح میں لائی جائے کوئی عورت اس کی پھوپھی یا خالہ پر اور منع کیا اس سے کہ طلب کرئے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی کہ انڈیل لے جو اس کے برتن میں ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے۔

صحيح مسلم # 3443
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp