كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو اسامة ، عن هشام ، عن محمد بن سيرين ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يخطب الرجل على خطبة اخيه، ولا يسوم على سوم اخيه، ولا تنكح المراة على عمتها، ولا على خالتها، ولا تسال المراة طلاق اختها لتكتفئ صحفتها ولتنكح، فإنما لها ما كتب الله لها ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص پیغام نکاح کا نہ دے اپنے بھائی کے پیغام پر (یعنی جب ایک شخص نے پیغام دیا جب تک لڑکی والے اس کو ناراضی کا پیغام نہ دیں اس وقت تک دوسرا آدمی وہاں پیغام نہ دے) اور نہ بھاؤ کرے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر اور نہ نکاح میں لائی جائے کوئی عورت اپنی پھوپھی کے اوپر، نہ خالہ کے اوپر اور نہ مانگے کوئی عورت طلاق اپنی سوت کا تاکہ انڈیل لے جو اس کی رکابی میں ہے (یعنی اس کے حصے کا نان و نفقہ مجھے مل جائے) اور چاہیے کہ نکاح میں آئے اور جو اللہ نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہے وہ اس کا ہے۔ (یعنی یہ نہ کہے کہ فلاں عورت تیرے نکاح میں ہے اس کو طلاق دے دے تو میں نکاح کروں گی)۔

صحيح مسلم # 3442
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp