كِتَاب النِّكَاحِ نکاح کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير الهمداني ، حدثنا ابي ، ووكيع ، وابن بشر ، عن إسماعيل ، عن قيس ، قال: سمعت عبد الله ، يقول: " كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس لنا نساء، فقلنا: الا نستخصي فنهانا، عن ذلك، ثم رخص لنا ان ننكح المراة بالثوب إلى اجل، ثم قرا عبد الله: يايها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين سورة المائدة آية 87 "،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جہاد کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں اور ہم نے کہا کہ کیا ہم خصی ہو جائیں؟ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو منع فرمایا اس سے اور اجازت دی ہم کو کہ ایک کپڑے کے بدلے ایک معین مدت تک عورت سے نکاح کریں۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ» کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: اے ایمان والو! مت حرام کرو پاک چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (5-المائدہ:57)

صحيح مسلم # 3410
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp