كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثني محمد بن حاتم ، حدثنا يحيى بن سعيد ، عن حميد الخراط ، قال: سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن ، قال: مر بي عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري ، قال: قلت له: كيف سمعت اباك يذكر في المسجد الذي اسس على التقوى؟ قال: قال ابي : دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت بعض نسائه، فقلت: يا رسول الله، اي المسجدين الذي اسس على التقوى؟ قال: فاخذ كفا من حصباء، فضرب به الارض، ثم قال: " هو مسجدكم هذا لمسجد المدينة "، قال: فقلت: اشهد اني سمعت اباك هكذا يذكره.

‏‏‏‏ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ میرے پاس سے عبدالرحمٰن بن ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ گزرے اور میں نے ان سے کہا کہ آپ نے اپنے والد کو کیسے سنا کہ وہ بیان فرماتے تھے کہ وہ مسجد کون سی ہے جس کی بنا تقویٰ پر ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے کہا کہ داخل ہوا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں رضی اللہ عنہن سے کسی کے گھر میں اور میں نے عرض کی کہ اے رسول اللہ کے! وہ مسجد کون سی ہے جس کو اللہ فرماتا ہے کہ تقویٰ پر بنائی گئی ہے؟ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکر لیے اور زمین پر مارے اور فرمایا: کہ وہ یہی تمہاری مسجد ہے مدینہ کی مسجد۔ سو میں نے کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد سے سنا ہے کہ ایسا ہی ذکر کرتے تھے اس مسجد کا۔

صحيح مسلم # 3387
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp