وحدثنا قتيبة بن سعيد ، ومحمد بن رمح ، جميعا عن الليث بن سعد ، قال قتيبة: حدثنا ليث، عن نافع ، عن إبراهيم بن عبد الله بن معبد ، عن ابن عباس ، انه قال: إن امراة اشتكت شكوى، فقالت: إن شفاني الله لاخرجن، فلاصلين في بيت المقدس، فبرات، ثم تجهزت تريد الخروج، فجاءت ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، تسلم عليها فاخبرتها ذلك، فقالت: اجلسي فكلي ما صنعت، وصلي في مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " صلاة فيه افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد، إلا مسجد الكعبة ".
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک عورت بیمار ہوئی اور اس نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰی نے مجھے شفا دی تو میں جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز پڑھوں گی پھر وہ اچھی ہو گئی اور تیاری کی اس نے جانے کی اور سيده میمونہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین بی بی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کے پاس حاضر ہوئی اور ان کو سلام کیا اور اپنے ارادے کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا: کہ جو تم نے توشہ تیار کیا ہے وہ کھاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد مبارک میں نماز پڑھو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ فرماتے تھے: کہ ”ایک نماز اس میں ادا کرنا افضل ہے ہزار نمازوں سے اور مسجدوں سے سوا مسجد کعبہ کے۔“