وحدثني عبد الملك بن شعيب بن الليث ، حدثني ابي ، عن جدي ، حدثني عقيل بن خالد ، عن ابن شهاب ، انه قال: اخبرني سعيد بن المسيب ، ان ابا هريرة ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " يتركون المدينة على خير ما كانت، لا يغشاها إلا العوافي يريد: عوافي السباع والطير، ثم يخرج راعيان من مزينة يريدان المدينة، ينعقان بغنمهما، فيجدانها وحشا حتى إذا بلغا ثنية الوداع خرا على وجوههما ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”لوگ مدینہ کو چھوڑ دیں گے اور وہ بہتر ہو گا اور نہ رہے گا اس میں کوئی مگر درندے اور پرندے، پھر نکلیں گے دو چرواہے قبیلہ مزینہ سے ارادہ کرتے ہوں گے مدینہ کا، للکارتے ہوں گے اپنی بکریوں کو اور پائیں گے مدینہ کو ویران یہاں تک کہ جب پہنچیں گے ثنیتہ الوداع تک کہ ٹیلہ ہے گر پڑیں گے اپنے منہ کے بل۔“