كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني الدراوردي ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ياتي على الناس زمان يدعو الرجل ابن عمه، وقريبه هلم إلى الرخاء هلم إلى الرخاء والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، والذي نفسي بيده، لا يخرج منهم احد رغبة عنها، إلا اخلف الله فيها خيرا منه، الا إن المدينة كالكير تخرج الخبيث لا تقوم الساعة حتى تنفي المدينة شرارها، كما ينفي الكير خبث الحديد ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے کو، اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ آؤ ارزانی کے ملک میں، آؤ ارزانی کے ملک میں اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا کاش کہ وہ جانتے ہوتے اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا ہے، کہ االلہ تعالٰی اس سے بہتر دوسرا شخص بھیج دیتا ہے مدینہ میں۔ آگاہ ہو کہ مدینہ ایسا ہے جیسے لوہار کی بھٹی کہ نکال دیتا ہے میل کو اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک مدینہ نہ نکال دے گا اپنے شریر لوگوں کو جیسے کہ بھٹی نکال دیتی ہے لوہے کی میل کو۔

صحيح مسلم # 3352
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp