كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن قطن بن وهب بن عويمر بن الاجدع ، عن يحنس مولى الزبير، اخبره: انه كان جالسا عند عبد الله بن عمر في الفتنة، فاتته مولاة له تسلم عليه، فقالت: إني اردت الخروج يا ابا عبد الرحمن، اشتد علينا الزمان، فقال لها عبد الله : اقعدي لكاع، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا يصبر على لاوائها وشدتها احد، إلا كنت له شهيدا او شفيعا يوم القيامة ".

‏‏‏‏ یحنس زبیر کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آزاد باندی آئی اور ان کو سلام کیا اور یہ فتنہ کے دن تھے (یعنی فتنہ حرہ کے دن جس کا ذکر ابھی تھوڑی دیر پہلے گزرا) اور اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! (یہ کنیت ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی) ہم پر سخت دن ہیں اور میں ارادہ کرتی ہوں مدینہ سے نکلنے کا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ بیٹھ اے نادان! اس لئے کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: جو صبر کرے گا مدینہ کی بھوک، پیاس اور مشقت پر تو میں اس کا شفیع ہوں گا (یعنی اگر وہ گنہگار ہے) یا گواہ ہوں گا (یعنی اگر وہ نیکوکار ہے) قیامت کے دن۔

صحيح مسلم # 3345
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp