وحدثناه حامد بن عمر ، حدثنا عبد الواحد ، حدثنا عاصم ، قال: قلت لانس بن مالك : " احرم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة؟ قال: " نعم، ما بين كذا إلى كذا فمن احدث فيها حدثا، قال: ثم قال لي: هذه شديدة من احدث فيها حدثا: فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا، ولا عدلا "، قال: فقال ابن انس: او آوى محدثا.
عاصم نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم ٹھہرایا مدینہ کو؟ کہا: ہاں فلاں مقام سے فلاں تک۔ ”سو جو اس میں کوئی بات نکالے یعنی گناہ کی تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی اور فرشتون اور لوگوں کی، نہ قبول کرے گا اللہ اس سے قیامت کے دن فرض نہ نفل۔“ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے کہا: یا جگہ دی کسی نئے گناہ کی بات کرنے والے کو۔