كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن نمير . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا عثمان بن حكيم ، حدثني عامر بن سعد ، عن ابيه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إني احرم ما بين لابتي المدينة ان يقطع عضاهها، او يقتل صيدها "، وقال: " المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، لا يدعها احد رغبة عنها، إلا ابدل الله فيها من هو خير منه، ولا يثبت احد على لاوائها وجهدها، إلا كنت له شفيعا، او شهيدا يوم القيامة "،

‏‏‏‏ عامر بن سعد نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے حرم مقرر کر دیا درمیان دونوں میدانوں کالے پتھر والوں کے کہ نہ کاٹا جائے کانٹے دار درخت وہاں کا۔ اور فرمایا: کہ مدینہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے کاش وہ اس کو سمجھتے (یہ خطاب ہے ان لوگوں کو جو مدینہ چھوڑ کر اور جگہ چلے جاتے ہیں یا تمام مسلمانوں کو) اور نہیں چھوڑتا کوئی مدینہ کو مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کوئی آدمی اس میں بھیج دیتا ہے اور نہیں صبر کرتا ہے کوئی اس کی بھوک، پیاس پر اور محنت و مشقت پر مگر میں اس کا شفیع یا گواہ ہوتا ہوں قیامت کے دن۔

صحيح مسلم # 3318
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp