وحدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا سليمان بن بلال ، عن عتبة بن مسلم ، عن نافع بن جبير : ان مروان بن الحكم خطب الناس، فذكر مكة، واهلها وحرمتها، ولم يذكر المدينة، واهلها وحرمتها، فناداه رافع بن خديج ، فقال: " ما لي اسمعك ذكرت مكة، واهلها وحرمتها، ولم تذكر المدينة، واهلها وحرمتها، وقد حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين لابتيها "، وذلك عندنا في اديم خولاني إن شئت اقراتكه، قال: فسكت مروان، ثم قال: قد سمعت بعض ذلك.
نافع نے کہا کہ مروان نے خطبہ پڑھا اور ذکر کیا مکہ کا اور اس کے رہنے والوں کا سو پکارا اس کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ صحابی نے اور کہا کہ یہ کیا سنتا ہوں میں تجھ سے کہ تو نے ذکر کیا مکہ کا اور اس کے لوگوں کا اور اس کے حرم ہونے کا اور نہ ذکر کیا مدینہ کا اور نہ وہاں کے لوگوں کا اور نہ اس کے حرم ہونے کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم ٹھہرایا ہے۔ دونوں کالے پتھر والے میدانوں کے بیچ میں اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم ٹھہرانے کی ہمارے پاس ایک خولانی چمڑے پر لکھی ہوئی ہے اگر تم چاہو تو میں تم کو پڑھا دوں۔ راوی نے کہا کہ مروان خاموش ہو رہا اور کہا کہ میں نے بھی اس میں سے کچھ سنا ہے۔