كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، وابن ابي عمر ، جميعا عن ابن عيينة ، قال ابو بكر : حدثنا سفيان بن عيينة ، عن إبراهيم بن عقبة ، عن كريب مولى ابن عباس، عن ابن عباس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم لقي ركبا بالروحاء، فقال: " من القوم؟ "، قالوا: المسلمون، فقالوا: من انت؟ قال: " رسول الله "، فرفعت إليه امراة صبيا، فقالت الهذا حج؟، قال: " نعم، ولك اجر ".

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹوں کے سوار لوگ ملے روحاء میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک کا رسول ہوں۔ تو ایک عورت نے ایک لڑکے کو ہاتھوں سے بلند کیا اور عرض کیا کہ کیا اس کا حج صحیح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ہاں صحیح ہے اور ثواب اس کا تم کو ہے۔ (یعنی ماں باپ کو)۔

صحيح مسلم # 3253
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp