كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا عبد الله بن بكر السهمي ، حدثنا حاتم بن ابي صغيرة ، عن ابي قزعة ، ان عبد الملك بن مروان بينما هو يطوف بالبيت، إذ قال: قاتل الله ابن الزبير حيث يكذب على ام المؤمنين ، يقول: سمعتها تقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا عائشة، لولا حدثان قومك بالكفر لنقضت البيت حتى ازيد فيه من الحجر، فإن قومك قصروا في البناء "، فقال الحارث بن عبد الله بن ابي ربيعة: لا تقل هذا يا امير المؤمنين، فانا سمعت ام المؤمنين تحدث هذا، قال: لو كنت سمعته قبل ان اهدمه لتركته على ما بنى ابن الزبير.

‏‏‏‏ ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان طواف کر رہا تھا بیت اللہ کا کہنے لگا: اللہ تعالیٰ ہلاک کرے (سیدنا) ابن زبیر (رضی اللہ عنہ) کو وہ جھوٹ باندھتا تھا ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اور کہتا تھا کہ میں نے ان سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اے عائشہ! اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ کو توڑا کر حجر کو (حطیم کو) زیادہ کرتا اس لیے کہ تمہاری قوم نے بنائے کعبہ کم کر دی۔ سو حارث نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! ایسا نہ فرمائیے اس لیے کہ میں نے بھی ام المؤمنین سے سنا ہے وہ بھی یہی حدیث بیان فرماتی تھیں تو عبدالملک نے کہا کہ اگر کعبہ گرانے کے قبل میں یہ حدیث سنتا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہی کی بناء کو قائم رکھتا۔

صحيح مسلم # 3248
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp