كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن عبد الله بن ابي بكر ، عن عمرة بنت عبد الرحمن ، انها اخبرته: ان ابن زياد كتب إلى عائشة: ان عبد الله بن عباس، قال: من اهدى هديا حرم عليه ما يحرم على الحاج حتى ينحر الهدي، وقد بعثت بهديي، فاكتبي إلي بامرك، قالت عمرة، قالت عائشة : " ليس كما قال ابن عباس، " انا فتلت قلائد هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي، ثم قلدها رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده، ثم بعث بها مع ابي، فلم يحرم على رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء احله الله له حتى نحر الهدي ".

‏‏‏‏ عمرہ، عبدالرحمٰن کی بیٹی نے کہا کہ ابن زیاد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قربانی بھیجی اس پر حرام ہو چکیں وہ چیزیں جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں جب تک کہ قربانی ذبح نہ ہو اور میں نے قربانی روانہ کی ہے سو جو حکم ہو مجھے لکھو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جیسا کہا ویسا نہیں ہے، میں نے خود بٹے ہیں ہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گلے میں ڈال کر میرے باپ کے ساتھ قربانی روانہ کر دی اور کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام نہ ہوئی اس کے ذبح تک جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال کی تھی۔

صحيح مسلم # 3205
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp