كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن عبد الله بن قهزاذ ، حدثنا علي بن الحسن ، عن عبد الله بن المبارك ، اخبرنا محمد بن ابي حفصة ، عن الزهري ، عن عيسى بن طلحة ، عن عبد الله بن عمرو بن العاص ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم واتاه رجل يوم النحر وهو واقف عند الجمرة، فقال: يا رسول الله، إني حلقت قبل ان ارمي، فقال: " ارم ولا حرج "، واتاه آخر، فقال: إني ذبحت قبل ان ارمي، قال: " ارم ولا حرج "، واتاه آخر، فقال: إني افضت إلى البيت قبل ان ارمي، قال: " ارم ولا حرج "، قال: فما رايته سئل يومئذ عن شيء، إلا قال: " افعلوا ولا حرج ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے پاس ایک شخص آیا نحر کے دن اور جمرہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، سو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے سر منڈا لیا کنکریاں مارنے سے پہلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب کنکریاں مار لو اور کچھ مضائقہ نہیں۔ اور دوسرا آیا اور عرض کی کہ میں نے ذبح کیا رمی سے پہلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کر لو اور کچھ حرج نہیں۔ اور تیسرا آیا اور عرض کی کہ میں نے طواف افاضہ کیا بیت اللہ کا رمی سے پہلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کر لو اور کچھ حرج نہیں۔روای نے کہا: اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز پوچھی کہ آگے پیچھے ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب کر لو اور کچھ حرج نہیں۔

صحيح مسلم # 3163
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp