كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثني حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، حدثني عيسى بن طلحة التيمي ، انه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص ، يقول: وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته، فطفق ناس يسالونه، فيقول القائل منهم: يا رسول الله، إني لم اكن اشعر ان الرمي قبل النحر، فنحرت قبل الرمي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فارم ولا حرج "، قال: وطفق آخر يقول: إني لم اشعر ان النحر قبل الحلق، فحلقت قبل ان انحر، فيقول: " انحر ولا حرج "، قال: فما سمعته يسال يومئذ عن امر مما ينسى المرء ويجهل من تقديم بعض الامور قبل بعض واشباهها، إلا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " افعلوا ذلك ولا حرج "،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر کھڑے رہے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلے پوچھنے لگے، سو ایک نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے نہ جانا کہ رمی نحر کے قبل ضروری ہے اور میں نے نحر کر لیا رمی سے پہلے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اب رمی کر لو اور کچھ مضائقہ نہیں۔ اور دوسرے نے کہا کہ میں نے نہ جانا کہ نحر قبل حلق کے ہے اور حلق کر لیا قبل نحر کے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:اب نحر کر لو اور کچھ حرج نہیں ہے۔ راوی نے کہا: میں نے بھی سنا کہ جس نے اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسا کام پوچھا کہ جسے انسان بھول جاتا ہے اور آگے پیچھے کر لیتا ہے اور اس کی مانند تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اب کر لو اور کچھ حرج نہیں۔

صحيح مسلم # 3157
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp