كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثني سلمة بن شبيب ، حدثنا الحسن بن اعين ، حدثنا معقل ، عن زيد بن ابي انيسة ، عن يحيى بن حصين ، عن جدته ام الحصين ، قال: سمعتها تقول: حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع، فرايته حين رمى جمرة العقبة، وانصرف وهو على راحلته، ومعه بلال، واسامة، احدهما يقود به راحلته، والآخر رافع ثوبه على راس رسول الله صلى الله عليه وسلم من الشمس، قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قولا كثيرا، ثم سمعته يقول: " إن امر عليكم عبد مجدع حسبتها قالت: اسود يقودكم بكتاب الله تعالى، فاسمعوا له واطيعوا ".

‏‏‏‏ یحییٰ نے اپنی دادی سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا سے سنا کہ وہ فرماتی تھیں کہ حج کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع۔ سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اپنی اونٹنی پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما تھے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر کھینچتا تھا اور دوسرا اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر پکڑے ہوئے تھا دھوپ کے سبب سے سو ام حصین نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت باتیں فرمائیں، پھر میں نے سنا کہ فرماتے تھے: اگر تمہارے اوپر ایک غلام کن کٹا حاکم کیا جائے میں خیال کرتا ہوں کہ ام حصین نے یہ بھی کہا کہ کالا غلام ہو اور کہا کہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق حکم دے تو بھی اس کی بات سنو اور اس کا کہنا مانو۔

صحيح مسلم # 3138
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp