وحدثنا منجاب بن الحارث التميمي ، اخبرنا ابن مسهر ، عن الاعمش ، قال: سمعت الحجاج بن يوسف، يقول، وهو يخطب على المنبر: الفوا القرآن كما الفه جبريل، السورة التي يذكر فيها البقرة، والسورة التي يذكر فيها النساء، والسورة التي يذكر فيها آل عمران، قال: فلقيت إبراهيم ، فاخبرته بقوله، فسبه، وقال: حدثني عبد الرحمن بن يزيد ، انه كان مع عبد الله بن مسعود ، فاتى جمرة العقبة، فاستبطن الوادي، فاستعرضها فرماها من بطن الوادي بسبع حصيات، يكبر مع كل حصاة، قال: فقلت: يا ابا عبد الرحمن: إن الناس يرمونها من فوقها، فقال: هذا والذي لا إله غيره مقام الذي انزلت عليه سورة البقرة ".
اعمش نے کہا کہ میں نے حجاج بن یوسف کو سنا کہ وہ خطبہ میں کہتا تھا کہ قرآن شریف کی وہی ترتیب رکھو کہ جو جبرئیل علیہ السلام نے رکھی ہے کہ وہ سورت پہلے ہو جس میں بقرہ کا ذکر ہے، پھر وہ جس میں نساء کا ذکر ہے، پھر وہ جس میں آل عمران کا ذکر ہے۔ اعمش نے کہا کہ پھر میں ابراہیم سے ملا اور ان کو اس بات کی خبر دی تو انہوں نے اس کو برا کہا اور پھر کہا کہ روایت کی مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جمرہ عقبہ پر آئے اور نالہ کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور جمرہ کو آگے کیا اور اس کو سات کنکریاں ماریں نالہ کے بیچ سے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے تھے۔ راوی نے کہا کہ پھر میں نے ان سے کہا کہ اے ابوعبدالرحمٰن! (یہ کنیت ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی) لوگ تو اوپر سے کھڑے ہو کر کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں کہا کہ یہ جگہ، اس معبود کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی ہے جس پر سورہ بقرہ اتری ہے۔