كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي ، حدثنا يحيى وهو القطان ، عن ابن جريج ، حدثني عبد الله مولى اسماء، قال: قالت لي اسماء ، وهي عند دار المزدلفة: هل غاب القمر، قلت: لا، فصلت ساعة، ثم قالت: يا بني، هل غاب القمر؟ قلت: نعم، قالت: ارحل بي، فارتحلنا حتى رمت الجمرة، ثم صلت في منزلها، فقلت لها: اي هنتاه لقد غلسنا، قالت: كلا اي بني " إن النبي صلى الله عليه وسلم اذن للظعن "،

‏‏‏‏ عبداللہ جو غلام آزاد ہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے انہوں نے کہا کہ مجھ سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور وہ مزدلفہ کے گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھی کہ کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے تھوڑی دیر نماز پڑھی، پھر مجھ سے فرمایا کہ اے میرے بچے! چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے فرمایا کہ میرے ساتھ روانہ ہو۔ سو ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں مار لیں پھر نماز پڑھی اپنی فرودگاہ میں۔ سو میں نے کہا: اے بی بی! ہم بہت سویرے روانہ ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ کچھ حرج نہیں اے میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دی ہے سویرے روانہ ہونے کی۔

صحيح مسلم # 3122
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp