كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا افلح يعني ابن حميد ، عن القاسم ، عن عائشة انها قالت: " استاذنت سودة رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة، تدفع قبله وقبل حطمة الناس، وكانت امراة ثبطة يقول القاسم: والثبطة: الثقيلة، قال: فاذن لها فخرجت قبل دفعه، وحبسنا حتى اصبحنا فدفعنا بدفعه "، ولان اكون استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما استاذنته سودة، فاكون ادفع بإذنه احب إلي من مفروح به.

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات کو کہ آپ سے پہلے منیٰ کو لوٹ جائیں اور لوگوں کی بھیڑ بھاڑ سے آگے نکل جائیں اور وہ ذرا فربہ بی بی تھیں، راوی نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ روانہ ہو گئیں قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوٹنے کے اور ہم لوگ سب رکے رہے یہاں تک کہ صبح کی ہم نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے اور اگر میں بھی اجازت لیتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے چلی جاتی تو خوب تھا اور اس سے بہتر تھا جس کے سبب سے میں خوش ہو رہی تھی۔

صحيح مسلم # 3118
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp