كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح وحدثنا ابن رمح ، اخبرني الليث ، عن ابي الزبير ، عن ابي معبد مولى ابن عباس، عن ابن عباس ، عن الفضل بن عباس وكان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: في عشية عرفة وغداة جمع للناس، حين دفعوا عليكم بالسكينة وهو كاف ناقته، حتى دخل محسرا وهو من منى، قال: " عليكم بحصى الخذف الذي يرمى به الجمرة "، وقال: " لم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى الجمرة "،

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ جو ردیف تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو لوگوں سے فرماتے تھے کہ آرام سے چلو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کو روکے ہوئے چلتے تھے یہاں تک کہ محسر میں داخل ہوئے اور محسر منیٰ میں ہے تو وہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چٹکی سے مارنے کی کنکریان اٹھا لو کہ ان سے جمرہ کو مارا جائے۔ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر لیبک پکارتے رہے یہاں تک کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔

صحيح مسلم # 3089
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp