كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وابن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل . ح وحدثنا يحيى بن يحيى ، واللفظ له: قال: اخبرنا إسماعيل بن جعفر ، عن محمد بن ابي حرملة ، عن كريب مولى ابن عباس، عن اسامة بن زيد ، قال: ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات، فلما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم الشعب الايسر الذي دون المزدلفة، اناخ فبال، ثم جاء فصببت عليه الوضوء فتوضا وضوءا خفيفا، ثم قلت: الصلاة يا رسول الله، فقال: " الصلاة امامك "، فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى المزدلفة فصلى، ثم ردف الفضل رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة جمع ". (حديث موقوف) قال قال كريب : فاخبرني عبد الله بن عباس ، عن الفضل " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يزل يلبي، حتى بلغ الجمرة ".

‏‏‏‏ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھا عرفات سے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں گھاٹی پر پہنچے مزدلفہ کے قریب تو اونٹ بٹھایا پیشاب کیا اور آئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کیا کہ نماز کا وقت آ گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور مزدلفہ آئے اور نماز پڑھی پھر فضل کو اپنے پیچھے بٹھایا صبح کو مزدلفہ کی۔ کریب نے کہا کہ خبر دی مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے کہ رسالت مآب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ جمرہ پر پہنچے (یعنی جمرہ عقبہ پر)۔

صحيح مسلم # 3087
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp