حدثنا عمرو الناقد ، وابن ابي عمر ، جميعا عن ابن عيينة ، قال: ابن ابي عمر: حدثنا سفيان، قال: سمعت الزهري ، يحدث، عن عروة بن الزبير ، قال: قلت لعائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: ما ارى على احد لم يطف بين الصفا، والمروة شيئا، وما ابالي ان لا اطوف بينهما، قالت: " بئس ما قلت يا ابن اختي، طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم وطاف المسلمون فكانت سنة، وإنما كان من اهل لمناة الطاغية التي بالمشلل، لا يطوفون بين الصفا، والمروة، فلما كان الإسلام سالنا النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فانزل الله عز وجل: إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما سورة البقرة آية 158، ولو كانت كما تقول، لكانت فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما "، قال الزهري: فذكرت ذلك لابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فاعجبه ذلك، وقال: إن هذا العلم، ولقد سمعت رجالا من اهل العلم يقولون: إنما كان من لا يطوف بين الصفا والمروة من العرب، يقولون: إن طوافنا بين هذين الحجرين من امر الجاهلية، وقال آخرون من الانصار: إنما امرنا بالطواف بالبيت، ولم نؤمر به بين الصفا، والمروة، فانزل الله عز وجل: إن الصفا والمروة من شعائر الله سورة البقرة آية 158، قال ابو بكر بن عبد الرحمن: فاراها قد نزلت في هؤلاء وهؤلاء.
عروہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جو سعی نہ کرے صفا اور مروہ میں اس پر کچھ گناہ نہیں اور میں تو پرواہ نہیں رکھتا اگر نہ سعی کروں ان میں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ برا کہا تو نے اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے سب نے سعی کی ہے اور یہ سنت ہے یہاں سنت سے مراد واجب ہے اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ جو مناۃ بدبخت کا جو مثلل میں تھا لبیک پکارتا تھا۔ وہ سعی نہ کرتا تھا صفا، مروہ میں، پھر جب اسلام ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہم لوگوں نے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا» کہ ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہے پھر جو حج کرے یا عمرہ لائے اس پر گناہ نہیں کہ ان میں سعی کرے۔“ اور اگر وہ بات ہوتی جو تم نے کہی تو یوں فرماتے کہ گناہ نہیں اس پر جو سعی نہ کرے، ان میں زہری نے کہا کہ میں نے یہ روایت ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے بیان کی تو انہوں نے بہت پسند کی اور انہوں نے کہا کہ علم اسی کا نام ہے یعنی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت سے سمجھا اور ابوبکر نے کہا: میں نے سنا ہے بہت لوگوں سے جو علم رکھتے تھے وہ کہتے تھے کہ یہ طواف نہ کرنے والے صفا اور مروہ میں عرب کے لوگ تھے کہ وہ کہتے تھے کہ ان دو پتھروں کے بیچ میں طواف کرنا جاہلیت کا کام تھا، اور دوسرے لوگوں کا قول تھا کہ ہم کو طواف بیت اللہ کا حکم ہوا ہے صفا اور مروہ میں پھرنے کا حکم نہیں ہوا جب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ» کہ ”صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہیں۔“ آخر آیت تک ابوبکر نے کہا کہ میں بھی یہی خیال کرتا ہوں کہ انہی دو گروہوں کے واسطے یہ آیت اتری۔