كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ، عن عروة ، عن زينب بنت ابي سلمة ، عن ام سلمة ، انها قالت: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي، فقال: " طوفي من وراء الناس وانت راكبة "، قالت: فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرا ب الطور وكتاب مسطور ".

‏‏‏‏ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو۔ سو میں نے کہا کہ میں طواف کرتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ طور پڑھ رہے تھے نماز میں بیت اللہ کے بازو پر۔

صحيح مسلم # 3078
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp