وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن مجاهد ، قال: دخلت انا وعروة بن الزبير المسجد، فإذا عبد الله بن عمر جالس إلى حجرة عائشة، والناس يصلون الضحى في المسجد، فسالناه عن صلاتهم، فقال: بدعة، فقال له عروة: يا ابا عبد الرحمن كم اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فقال: اربع عمر إحداهن في رجب، فكرهنا ان نكذبه ونرد عليه، وسمعنا استنان عائشة في الحجرة، فقال عروة: الا تسمعين يا ام المؤمنين إلى ما يقول ابو عبد الرحمن، فقالت: وما يقول؟، قال: يقول: اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم اربع عمر إحداهن في رجب، فقالت: يرحم الله ابا عبد الرحمن ما اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، إلا وهو معه، وما اعتمر في رجب قط ".
مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اور عروہ دونوں مسجد نبوی میں گئے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں نماز چاشت پڑھ رہے تھے، سو میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ نماز کیسی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے (یعنی مسجد میں ادا کرنا اس کا اور اہتمام کرنا مثل صلوۃ مفروضہ کے بدعت ہے) پھر ان سے کہا عروہ نے اے ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں ہے سو ہم کو برا معلوم ہوا کہ ہم ان کی تکذیب کریں یا ان کو رد کر دیں اور مسواک کرنے کی آواز سنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کہ وہ حجرے میں تھیں۔ سو عروہ نے کہا کہ آپ سنتی ہیں اے مؤمنوں کی ماں! جو ابوعبدالرحمٰن کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے پوچھا کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں ایک رجب میں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرے ابوعبدالرحمٰن پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جو یہ ان کے ساتھ نہ ہوں اور رجب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا۔