كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا هارون بن عبد الله ، اخبرنا محمد بن بكر البرساني ، اخبرنا ابن جريج ، قال: سمعت عطاء يخبر، قال: اخبرني عروة بن الزبير ، قال: كنت انا وابن عمر مستندين إلى حجرة عائشة، وإنا لنسمع ضربها بالسواك تستن، قال: فقلت يا ابا عبد الرحمن: اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم في رجب؟ قال: نعم، فقلت لعائشة : اي امتاه الا تسمعين ما يقول ابو عبد الرحمن؟، قالت: وما يقول؟، قلت: يقول اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم في رجب، فقالت: يغفر الله لابي عبد الرحمن لعمري ما اعتمر في رجب وما اعتمر من عمرة إلا وإنه لمعه "، قال: وابن عمر يسمع، فما قال لا، ولا نعم، سكت.

‏‏‏‏ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: خبر دی مجھے عروہ نے کہا: میں اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسواک کر رہی تھیں اور ہم ان کے مسواک کی آواز سن رہے تھے۔ سو میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہ کنیت ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ اے میری ماں آپ سنتی ہیں کہ ابوعبدالرحمٰن کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ اللہ بخشے ابوعبدالرحمٰن کو قسم ہے میری جان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی رجب میں عمرہ نہیں کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ابوعبدالرحمٰن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات سنی اور نہ ہاں کہا نہ نا، اور چپ ہو رہے۔

صحيح مسلم # 3036
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp