كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثني عبيد الله بن عمر القواريري ، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى ، حدثنا داود ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد ، قال: " خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نصرخ بالحج صراخا، فلما قدمنا مكة، امرنا ان نجعلها عمرة إلا من ساق الهدي، فلما كان يوم التروية ورحنا إلى منى، اهللنا بالحج ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو پکارتے ہوئے پھر جب مکہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اس احرام حج کو عمرہ کر ڈالیں مگر وہ لوگ جن کے ساتھ قربانی ہے، پھر جب آٹھویں تاریخ ہوئی ذوالحجہ کی اور سب منیٰ کو چلے تو پھر لبیک پکاری حج کی یعنی بیچ میں عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا تھا۔

صحيح مسلم # 3023
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp