حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قال ابن المثنى: حدثنا محمد بن جعفر ، قال: حدثنا شعبة ، عن قتادة ، قال: سمعت ابا حسان الاعرج ، قال: قال رجل من بني الهجيم لابن عباس : ما هذا الفتيا التي قد تشغفت او تشغبت بالناس، ان من طاف بالبيت فقد حل؟، فقال: " سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم، وإن رغمتم ".
قتادہ نے کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا ہے کہ ایک شخص نے بنی ھجیم کے قبیلہ میں سے کہا کہ اے ابن عباس! یہ کیا فتویٰ آپ دیتے ہیں جس میں لوگ مشغول ہو رہے ہیں یا جس میں لوگ گڑبڑ کر رہے ہیں کہ جس نے طواف کیا بیت اللہ کا (یعنی حاجیوں میں سے اور اس طواف سے طواف قدوم مراد ہے) سو وہ حلال ہو گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اگرچہ تمہاری ناک مین خاک بھر جائے۔ (یعنی تمہارے خلاف ہو تو ہوا کرے)۔