حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت ابا جمرة الضبعي ، قال: تمتعت فنهاني ناس عن ذلك، فاتيت ابن عباس فسالته عن ذلك، فامرني بها، قال: ثم انطلقت إلى البيت فنمت، فاتاني آت في منامي، فقال: " عمرة متقبلة وحج مبرور "، قال: فاتيت ابن عباس فاخبرته بالذي رايت، فقال: " الله اكبر الله اكبر سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم ".
شعبہ نے ابوجمرہ ضبعی سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے تمتع کیا اور لوگوں نے مجھے منع کیا۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، سو انہوں نے مجھے حکم دیا اور پھر میں بیت اللہ کے پاس جا کر سو رہا اور خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ عمرہ بھی مقبول ہے اور حج بھی مقبول ہے۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خواب بیان کیا کہا: سب بزرگی اللہ کو ہے، سب بزرگی اللہ کو ہے، یہ سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ (یعنی پھر کیوں نہ قبول ہو)۔