وحدثني وحدثني هارون بن سعيد الايلي ، واحمد بن عيسى ، قالا: حدثنا ابن وهب ، اخبرني عمرو ، عن ابي الاسود ، ان عبد الله مولى اسماء بنت ابي بكر رضي الله عنهما، حدثه، انه كان يسمع اسماء كلما مرت بالحجون، تقول: " صلى الله على رسوله وسلم لقد نزلنا معه هاهنا، ونحن يومئذ خفاف الحقائب قليل ظهرنا قليلة ازوادنا، فاعتمرت انا واختي عائشة، والزبير وفلان وفلان، فلما مسحنا البيت احللنا، ثم اهللنا من العشي بالحج "، قال هارون في روايته: ان مولى اسماء، ولم يسم عبد الله.
ابوالاسود سے روایت ہے کہ عبداللہ نے جو کہ مولیٰ ہیں سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے ان سے بیان کیا کہ اسماء ہمیشہ جب حجون کے اوپر گزرتیں (حجون بفتح قریب مکہ کی بلندی کی طرف اور جب جانے والا محصب پر چڑھتا ہے تو وہ داہنی طرف پڑتا ہے) فرماتیں کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ہم ان کے ساتھ یہاں اترے ہیں اور ہمارے پاس ان دنوں بوجھے کم تھے اور سواریاں تھوڑی تھیں اور توشہ قلیل تھا (یعنی عرب کی سادگی اور دنیا سے آزادگی تھی) اور میں نے اور میری بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اور فلانے فلانے شخصوں نے عمرہ کیا تھا، پھر جب ہم نے بیت اللہ کو چھوا (یعنی طواف اور سعی پوری کی) تو حلال ہو گئی، پھر تیسرے پہر کو حج کا احرام باندھا اور ہارون نے اپنی روایت میں کہا کہ روایت کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے مولیٰ نے اور ان کا نام عبداللہ نہیں لیا۔